باب الذکر

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - جنت کا وہ دروازہ جس سے خدا کا ذکر کرنے والے داخل ہوں گے۔ "جو شخص ہر وقت ذکر الٰہی میں رہتا ہے اس کو باب الذکر سے پکاریں گے۔"      ( ١٨٤٩ء، بہشت نامہ، ١٠ )

اشتقاق

عربی زبان کی ترکیب ہے۔ باب اور ذکر دو اسما پر مشتمل ہے 'ال' عربی قواعد کے تحت بطور تخصیص مستعمل ہے لیکن 'ذ' چونکہ شمسی حرف ہے اس لیے 'ال' دونوں غیر ملفوظ ہیں۔ عربی سے اردو میں ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٤٩ء میں "بہشت نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جنت کا وہ دروازہ جس سے خدا کا ذکر کرنے والے داخل ہوں گے۔ "جو شخص ہر وقت ذکر الٰہی میں رہتا ہے اس کو باب الذکر سے پکاریں گے۔"      ( ١٨٤٩ء، بہشت نامہ، ١٠ )

جنس: مذکر